مزید پڑھیں...

مصنوعی ذہانت کا بلبلہ اور مارکس

مصنوعی ذہانت کا بلبلہ اور مارکس

اب سوال یہ ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت میں حد سے زیادہ سرمایہ کاری اور اس سے حاصل ہونے والے منافع کے امکانات میں کمی کے بارے میں سرمایہ کاروں کے خدشات اس جنون کے اصل مرکز یعنی امریکہ تک بھی پھیل جائیں گے یا نہیں۔

بغاوتوں کی ایک ہی داستان تو ہے!

بغاوتوں کی ایک ہی داستان تو ہے!

المیہ یہ ہے کہ رائج قدروں سمیت ہر مروجہ ادارے پر سوالیہ نشان لگانے والے نوجوان گلیوں، محلوں، سڑکوں اور بازاروں میں اپنی نفرت کا اظہار تو کر رہے ہیں۔ لیکن متبادل اداروں کی تشکیل کی سائنس سے بڑی حد تک ناآشنا ہیں۔

’’ہم غیر سیاسی ہیں‘‘

’’ہم غیر سیاسی ہیں‘‘

اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ سیاست کہاں موجود ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سیاست کو کس طبقے کے مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں کس طبقے کی سیاست کی بات ہو رہی ہے۔

کیا معاشیات بدل رہی ہے؟

کیا معاشیات بدل رہی ہے؟

میرے نزدیک معاشیات ایک سائنس ہے۔ یعنی ایسا علم جو تھیوری کو شواہد کے مقابل رکھ کر جانچتا ہے۔ لیکن یہ سماجی سائنس ہے۔ جس کا موضوع مجموعی طور پر رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ نہ کہ محض افراد کے انفرادی رویوں کا مطالعہ۔

یومِ مئی: مشکل وقتوں میں جدوجہد کا استعارہ

یومِ مئی: مشکل وقتوں میں جدوجہد کا استعارہ

اس نظام میں مصنوعی ذہانت اور سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت نے محنت کشوں کی زندگی کو آسان کرنے کی بجائے طبقاتی جبر و استحصال کو بڑھا دیا ہے۔ کیونکہ سرمایہ داری کا مطمع نظر انسانی ضروریات کی تکمیل اور فلاح نہیں بلکہ منافع خوری ہے۔

ایران جنگ: ناکام نظام کے بدحواس حکمران

ایران جنگ: ناکام نظام کے بدحواس حکمران

پاکستانی حکام کی دوڑیں اس لئے بھی لگی ہوئی ہیں کہ وہ واقعی خطے میں کوئی بڑی تباہی نہیں چاہتے۔ معاملات مزید بگڑ جانے کی صورت میں نہ صرف پاکستان کی ایک اور سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی بلکہ جو معاشی بربادی آئے گی‘ پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔