عمرشاہد

دنیا بھر میں سرمایہ داروں کی ایماپر عالمی اداروں کی ترتیب دی گئی معاشی پالیسی کے مطابق ملکی بجٹ کے خسارے کو کم کرنے کی غرض سے عوامی اداروں کی نجکاری کو ایک اہم معاشی نسخے کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اس نسخے کویہاں کے حکمران بڑے بھونڈے انداز سے نافذ کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ ماضی کی نجکاری پالیسی کو موجودہ حکومت بڑے وحشیانہ انداز میں نافذ کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ بڑے صنعتی مراکز سے لے کر بنیادی حق سمجھی جانے والی سہولیات کو بھی نجی شعبے کے سپرد کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عالمی کساد بازاری کے باعث بڑے پیمانے پر ان کو اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں مل سکی لہٰذایہ اداروں کے ٹکڑ ے کر کے ان کے منافع بخش حصوں کو فوری طور پر نیلام کرنا چاہ رہے ہیں۔ سٹیل ملز جیسے دیو ہیکل ادارے کو بہتر قیمت اور خریدار نہ مل سکنے کی وجہ سے وقتی طور پر فروخت کے لئے پیش نہیں کیا جا رہا۔ اگر دیکھا جائے تو بنیادی سروسز کے ادارے جن میں شرح منافع بھی بلند ہے ان کو ریاست فوری طور پر فروخت کرنا چاہ رہی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں یونیورسٹیوں کو ”خودمختیاری“ دے کر تمام تر فنڈز کی ذمہ داری بھی ان پر عائد کی جا چکی ہے۔ اسی طرح پرائمری سکول اور کالج تک بھی فروخت کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے عمل میں بڑے اور قدیم کالجوں جیسے گارڈن کالج راولپنڈی، مرے کالج سیالکوٹ، دیال سنگھ کالج لاہور، زمیندار کالج گجرات اور دیگر کو فروخت کے لئے پیش کیا گیا لیکن فوری طور پر اساتذہ اور طلبہ کی مزاحمت کے باعث انہیں یہ فیصلہ موخر کرنا پڑا۔ اسی طرح پوسٹ آفس اور ریلوے جیسے اداروں کے ٹکڑے کر کے انہیں فروخت کیا جا رہا ہے۔ محکمہ انہار، پوسٹ آفس اور’TDCP‘کے ریسٹ ہاؤسز کو ”عوام کے لئے کھولنے“ کے پیچھے اصل واردات بھی مٹھی بھر سرمایہ داروں کو نوازنا ہے۔ اس کی واضح مثال مالم جبہ میں نئی لگژری سہولیات کا افتتا ح ہے جہاں پر مہنگی مارکیٹوں اور برف کے کھیلوں کو فروغ دیا جا ئے گا تا ہم یہ سہولت بھی صرف امیرو ں کے لئے فراہم کی جائے گی کیونکہ اس علاقے کا مکمل کنٹرول نجی ادارے کو دیا گیا ہے۔ اسی طرح دیکھا جائے تو صحت کی سہولیات کو بڑے وحشیانہ انداز میں بیچا جا رہا ہے۔ ٹیچنگ ہسپتالوں کے بعد صوبہ خیبر پختونخواہ سے رورل ہیلتھ مراکز تک کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ واپڈا کے ماتحت نیشنل پاور کنسٹرکشن کارپوریشن کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پہلے جو کام واپڈا کی نگرانی میں ارزاں قیمتوں میں کیا جا تا تھا اب وہ نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے تقریباً دگنی قیمتوں میں کیا جا رہا ہے۔ واپڈا جیسے دیوہیکل ادارے کو پہلے چھوٹی کمپنیوں میں تقسیم کیا گیااوراب ان کمپنیوں کو بھی مزید تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ڈسٹریبوشن، بلنگ، میٹر ریڈنگ اورلائن سسٹم شعبوں کو علیحدہ علیحدہ فروخت کیا جارہا ہے۔ ریلوے میں ٹرینوں کی نجی ریل میں ناکامی کے باوجود مختلف ٹرینوں، لائنوں اور سٹیشنوں تک کو علیحدہ فروخت کئے جانے کی واردات جاری ہے۔ ریلوے کی زمینوں کوہاؤسنگ سوسائٹیز اور پلازوں کے لئے نیلام کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ملکی تاریخ میں پہلی بار ریاستی زمینوں کو بھی مالکانہ حقوق پر فروخت کیا جا رہا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ پورے پاکستان کو فروخت کیا جا رہا ہے۔

اگر مزدور تحریک کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر پسپائی، شکست اور رجعت حاوی ہونے کے باوجود محنت کش طبقہ اپنی بقا کے لئے سر گرم عمل ہے۔ حکمرانو ں کی جانب سے کشمیر اور بلوچستان میں قانونی طور پر ٹریڈ یونینز پرپابندی عائد کی جا چکی ہے۔ پورے ملک میں لازمی سروسز ایکٹ کا نفاذ کیا جا چکا ہے۔ لیبر قوانین میں ترمیم کے بعد لیبر انسپکشن کا اختیار ختم اور قانونی ہڑتال کو تقریبا ً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح محنت کشوں کے احتجاج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث کیا جا رہا ہے اور رہی سہی کسر پاکستان میں چینی سامراج کے زیر سایہ تعمیر ہونے والے فری اکنامک زونز نے پوری کر دی ہے جہاں قانونی طور پر محنت کش اپنے حق میں آواز بھی نہیں اٹھا سکتے۔ سطح کے نیچے ایک طوفان برپا ہے۔ عمومی بحران میں حکمرانوں کے حملوں کی وجہ سے فوری طور پر محنت کشوں کی پرتوں میں صدمے کی کیفیت جنم لیتی ہے۔ جس دوران خوف اور ناامیدی کی فضا قائم نظر آتی ہے اس دوران محنت کشوں کی صفوں میں تحریکوں کی بجائے انفرادی تحفظ کی سوچ غالب نظر آتی ہے۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔ پچھلے عرصے میں دیکھا جائے تو پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے محنت کشوں نے جس بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا وہ دیدہ دلیرانہ تھا۔ جب انہوں نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اورانہیں اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ یہی صورتحال یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے محنت کشوں میں نظر آئی جنہیں دفتر خالی کرنے کا کہا گیا لیکن انہوں نے ادارے کی نجکاری کا فیصلہ ہی موخر کروا دیا۔ حالیہ تحریکوں میں دیکھا جائے تو پاکستان جیسے معاشروں میں خواتین کو اکثر دوسرے درجہ کا شہری تصور کیا جا تا ہے تاہم گرینڈ ہیلتھ الائنس کے دھرنے ہوں، سندھ اساتذہ کی تحریک ہو یا پھردیگر شعبوں کی تحریکیں ہر ایک میں محنت کش خواتین ہراول دستے کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں شعبہ صحت کے محنت کشوں پر پولیس تشدد کے بعد گرینڈ ہیلتھ الائنس تنظیموں کا قومی سطح پر اظہارِ یکجہتی ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ حکومت کی جانب سے جبر تحریکوں کو بھڑکا کے آگے بھی بڑھا سکتا ہے۔ مستقبل میں بھی ایسی کیفیات جنم لے سکتی ہیں۔

ان تمام تحریکوں میں کئی قدریں مشترک ہیں۔ جہاں ان چھوٹی لڑائیوں میں محنت کشوں کی کامیابیاں حکمرانوں کی کمزوریوں اور بوکھلاہٹ کو عیاں کرتیں ہیں وہی یہ مزدور قیادت پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہیں۔ تمام تحریکوں میں ضیا آمریت کے بعد جوان ہونے والا تازہ دم پرولتاریہ میدان عمل میں نظر آتا ہے۔ یہ پرولتاریہ جہاں ایک طرف لڑائی، مزاحمت اور جدوجہد کی طرف مائل ہے تو وہیں پر یہ ماضی کی غلاظتوں سے بھی پاک ہے۔ یہی تازہ دم پرولتاریہ ہر تحریک کے ہراول دستے کے طور پر اس میں تحرک پیدا کر رہا ہے۔ دوسرا عمل تحریکوں کا خودروپن ہے جو کہ اپنی قیادت کی مرضی یا کسی ٹھوس لائحہ عمل کے بغیر اپنے ہی نظم و ضبط میں حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہڑتال کی کال بھی مزدور رہنما ؤں کو محنت کشوں کے دباؤ کو زائل کرنے کے لئے دینا پڑتی ہے مگر عمل میں چیزیں تحریک کو ایک نئے رنگ میں ڈھال لیتی ہیں۔ نجی شعبے کی بات کی جائے توتقریباًپاکستان کے ہر صنعتی مرکز میں محنت کشوں اور انتظامیہ کے مابین تنازعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ٹریڈ یونینز نہ ہونے کی وجہ سے یہ محنت کش اپنے بل بوتے پر ہی ایک منظم انداز میں تحریک کو آگے بڑھاتے جاتے ہیں۔

حال ہی میں کریسنٹ باہو مان فیکٹری پنڈی بھٹیاں، ستارہ کیمیکل فیصل آباد، لیدر فیلڈ سیالکوٹ اورہونڈا شیخوپورہ روڈ میں ہونے والی ہڑتالوں کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ بعض اوقات الگ تھلگ فیکٹریوں یا اداروں کے مزدور بھی لڑ سکتے ہیں اور اپنے مطالبات منظور بھی کروا سکتے ہیں۔لیکن اگلے مرحلے میں ان تحریکوں کو جوڑنے کی ضرورت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ وگرنہ پسپائی اور شکست مقدر بن جاتی ہے جو پھر پوری مزدور تحریک پر انتہائی نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہے۔

حکمرانوں کے تما م تر حملوں کے باوجود محنت کش طبقہ اپنے حالات زندگی بدلنے کے لئے کوشاں ہے اور اپنی طاقت کا اظہار گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف مظاہروں اور مزاحمتی تحریکوں میں کر چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ تحریکیں بھڑک کر اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر ایک یکسر مختلف صورتحال کو جنم دے سکتی ہیں۔ جسے معیاری جست صرف ایک انقلابی پارٹی ہی د ے سکتی ہے۔